حیدرآباد،12؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے بعدٹیم انڈیانے بنگلہ دیش پر بھی سبقت حاصل کر لی ہے،حیدرآبادمیں کھیلی جا رہی ٹیسٹ سیریز کے واحد ٹیسٹ میچ اب اس کی میزبان کی گرفت مضبوط نظر آرہی ہے۔اسے پہلی اننگ کی بنیاد پر299رنون کی سبقت حاصل ہوگئی ہے اور فالوآن کھلانے کا بھی موقع تھا، لیکن ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ نے گیند بازوں کو آرام دینے کے لیے خود بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ دراصل ٹیم انڈیا کو اتنی بڑی سبقت بلے بازوں کی موثر کارکردگی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے، جس میں کپتان وراٹ کوہلی، مرلی وجے، اجنکیا رہانے، چتیشور پجارا اور ردھیمان ساہا کی اننگیں اہم رہیں۔بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کے پیچھے بلے بازی کوچ سنجے باگر کا کردار کافی اہم مانا جا رہا ہے، وہیں گیند بازوں نے بھی اچھی کوشش کی۔بانگر نے ٹیم کی اچھی کارکردگی کے لیے کپتان وراٹ کوہلی کے ساتھ ساتھ ٹیم انڈیا کے سابق کپتان اور اب ٹیم کے چیف کوچ انیل کمبلے کو اس کا کریڈٹ دیا ہے۔بلے بازی کوچ سنجے باگر نے ٹیم کے بلے بازوں کے بیٹنگ اسٹائل میں بھی تبدیلی کی ہے، خاص طورسے اجنکیا رہانے کے کھیل کی تکنیک میں انہوں نے تبدیلی پر توجہ مرکوز کی اور نتائج سب کے سامنے ہے۔بانگر کے مطابق سابق کوچ ڈنکن فلیچر کے وقت ہندوستانی بلے بازوں کا بلے بازی انداز زیادہ کھلا ہوا تھا اور اس سے انہیں فرنٹ فٹ پر کھیلنے میں پریشانی ہوتی تھی، حالانکہ خود بانگر نے اس کا کریڈٹ کپتان وراٹ کوہلی کو بھی دیا ہے۔بانگر نے گیند بازوں کی اچھی فوج تیارکرنے کے لیے کمبلے کو سراہا ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ چل رہے واحد ٹیسٹ میچ میں پانچ گیند بازوں کے ساتھ اترنے کے لیے کوہلی کی تعریف کی۔سنجے باگر نے کہاکہ یہ بہت اہم ہے کہ گیندبازی اٹیک کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ غیر ملکی دوروں پربھی اسپن گیند بازوں کا کردار اہم ہوگا، وہیں اپنی سرزمین پر کھیلتے ہوئے تیز گیند بازوں کا کردار بالکل تبدیل ہوجاتاہے۔انہوں نے تیز گیند بازوں پر اعتماد کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آپ کو ایسا گیندبازی اٹیک تیار کرنے کی ضرورت ہے جو کھیل کے ہر فارمیٹ میں نتائج دے، یہ تیز گیند بازوں پر اعتماد کے اظہار سے ہوا ہے۔بانگر نے آگے کہاکہ آپ اکثر دیکھتے ہوں گے ہندوستان میں کھیلتے ہوئے تین تین اسپن گیندباز کھیلتے نظر آئیں گے ، لیکن ساتھ میں دوتیزگیندبازبھی ہوتے ہیں،ہندوستانی کرکٹ کے لیے جس طرح کی منصوبہ بندی تیار کی ہے، اس کا زیادہ تر کریڈٹ کوہلی اور کمبلے کو جاتا ہے۔بانگر نے امیش یادو کے تناظر میں کہاکہ ہر تیز گیندباز الگ ہوتا ہے،میرے خیال سے امیش میں سب سے زیادہ بہتری آئی ہے، وہ دونوں طرف گیند کو سوئنگ کرا سکتے ہیں اور وہ اننگز کے آغاز اوردرمیان دونوں جگہ اچھی گیندبازی کرتے ہیں۔